صحیفہء کائنات
قسم کلام: اسم ظرف مکان
معنی
١ - مراد: دنیا، زمین و آسمان۔ "اس کا جواب . خود صیحفۂ کائنات کے اوراق بارہا دے چکے ہیں۔" ( ١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ٨٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'صحیفہ' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'کائنات' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٥ء کو "فلسفہ اجتماع" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مراد: دنیا، زمین و آسمان۔ "اس کا جواب . خود صیحفۂ کائنات کے اوراق بارہا دے چکے ہیں۔" ( ١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ٨٥ )
جنس: مذکر